پٹنہ، 24؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی ) بہابہار کی سیاست میں اس وقت نئی ہلچل محسوس کی گئی جب بی جے پی لیڈر اور ریاستی اسمبلی میں اسپیکر وجئے کمار سنہا نے اسپیکر عہدہ سے استعفیٰ نہ دینے اعلان کر دیا۔ انھوں نے کہا ہے کہ انھیں جو نوٹس دیا گیا ہے وہ اصول و ضوابط کے خلاف ہے۔ استعفیٰ سے انکار کرنے کے بعد وجئے کمار سنہا نے کہا کہ ’’عدم اعتماد کی تجویز کے ذریعہ استعفیٰ دینے سے میری عزت نفس کو ٹھیس پہنچے گی۔‘‘
موصولہ خبروں کے مطابق اسمبلی سکریٹریٹ کی طرف سے جو نوٹس وجئے سنہا کو بھیجا گیا تھا، اسے لینے سے انھوں نے انکار کر دیا۔ وجئے سنہا کے اس فیصلہ کے بعد بہار اسمبلی کا آئندہ اجلاس ہنگامہ خیز ہونے کا امکان ظاہر کیا جانے لگا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 10 اگست کو وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے این ڈی اے اتحاد سے رشتہ توڑ کر مہاگٹھ بندھن میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا تھا، اور پھر فوراً ہی نئی حکومت بھی تشکیل پا گئی۔ اس کے بعد مہاگٹھ بندھن کے 40 سے زائد اراکین اسمبلی نے وجئے سنہا کے خلاف عدم اعتماد کی تجویز پیش کی تھی۔
واضح رہے کہ بہار کے 243 رکنی اسمبلی میں مہاگٹھ بندھن کے 160 سے زائد اراکین ہیں۔ قیاس لگائے جا رہے ہیں کہ 79 اراکین والی سب سے بڑی پارٹی آر جے ڈی اپنے سینئر لیڈر اودھ بہاری چودھری کو آئینی عہدہ کے لیے نامزد کرتے ہوئے اسپیکر عہدہ کے لیے دعویٰ پیش کرے گی۔ بہار قانون ساز کونسل کے کارگزار صدر اور بی جے پی لیڈر اودھیش نارائن سنگھ کو بھی بدلا جا سکتا ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جنتا دل یو اس عہدہ کے لیے دیویش چندر ٹھاکر کے نام پر غور کر رہا ہے۔